MOJ E SUKHAN

بستی میں ہے وہ سناٹا جنگل مات لگے

غزل

بستی میں ہے وہ سناٹا جنگل مات لگے
شام ڈھلے بھی گھر پہنچوں تو آدھی رات لگے

مٹھی بند کئے بیٹھا ہوں کوئی دیکھ نہ لے
چاند پکڑنے گھر سے نکلا جگنو ہات لگے

تم سے بچھڑے دل کو اجڑے برسوں بیت گئے
آنکھوں کا یہ حال ہے اب تک کل کی بات لگے

تم نے اتنے تیر چلائے سب خاموش رہے
ہم تڑپے تو دنیا بھر کے الزامات لگے

خط میں دل کی باتیں لکھنا اچھی بات نہیں
گھر میں اتنے لوگ ہیں جانے کس کے ہات لگے

ساون ایک مہینے قیصرؔ آنسو جیون بھر
ان آنکھوں کے آگے بادل بے اوقات لگے

قیصر الجعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم