MOJ E SUKHAN

بستی نظم

بستی  نظم

کھلی آنکھوں سے دنیا کا تماشا دیکھتے رہنا
زباں سے کچھ نہیں کہنا

طواف رائیگاں کی عادتیں بھی اب پرانی ہیں
یقیں آثار گھڑیاں بھی تصرف میں نہیں میرے

انہی آنکھوں کے اک گوشے میں ست رنگے سہانے خواب رکھے ہیں
کہیں آدھی رفاقت کی کسک نے گھر بنایا ہے

کہیں تکمیل کی خواہش
کسی سنگ گراں کے عکس کی صورت مجھے بے چپن رکھتی ہے

کہیں رنج و الم کے زرد لمحے کسمسا کر بیٹھ رہتے ہیں
یہاں خوں بار منظر بھی کئی برسوں سے ٹھہرے ہیں

یہ آنکھیں ہیں کہ کوئی خانماں برباد بستی ہے
میں اب ان کی حفاظت کر نہیں سکتی

سو میں نے اپنی آنکھیں آج نیلامی میں رکھ دی ہیں

حجاب عباسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم