غزل
بس اس لیے تمہیں بھیجا تھا لکھ کے ہاں کاغذ
کہ میرا حال کرے تم سے کچھ بیاں کاغذ
خدا کے واسطے کس طرح پہنچے واں کاغذ
نہ لے کے جا سکے جس جا فرشتہ خاں کاغذ
ابھی لکھا بھی نہ تھا حال سینۂ پر داغ
کہ بن گیا یوں ہی صد شک گلستاں کاغذ
میں حال سوز دل اپنا لکھوں تو کیسے لکھوں
حذر ہے خامہ کو مانگے ہے الاماں کاغذ
اب اس کو کیا کروں وہاں تک پہنچ نہیں سکتا
جو ایک ہے مرا کمبخت راز داں کاغذ
سمجھ کے خط مرا غیروں کا بھی نہیں لیتا
یہ بد گمانی ہے وہ شوخ بد گماں کاغذ
جو پہنچے ہاتھ تک اس ماہرو کے قسمت سے
تو پیدا کرتا ہے خاصیت کتاں کاغذ
خدا کے واسطے چھپ چھپ کے ہم سے فرماؤ
یہ روز بھیجو ہو لکھ لکھ کے کس کے ہاں کاغذ
لکھا جو میں نے کہ خط کے جواب میں تم نے
لکھا نہ بھول کے ہم کو کبھی عیاں کاغذ
تو پھر کے آپ نے قاصد سے یہ کہا کہ یہاں
کہاں دوات کہاں خامہ اور کہاں کاغذ
نہ پہنچے عیشؔ اسے ہم نے بارہا لکھے
ہزار حیف گئے یوں ہی رائیگاں کاغذ
حکیم آغا جان عیش