MOJ E SUKHAN

بس اک ذرا خیال ہمیں دوستی کا ہے

غزل

بس اک ذرا خیال ہمیں دوستی کا ہے
ورنہ بہت ملال تری بے رخی کا ہے

تو بھی ہے زندگی میں کہیں ہے مجھے یقین
یا یہ بھی احتمال مری سادگی کا ہے

ہے آج جسم و جاں پہ تری یاد کی تھکن
اک خوف میرے دل کو کسی ان کہی کا ہے

واقف ہوں تیرے درد سے لیکن مرے حبیب
اب تو یہ مسئلہ بھی مری زندگی کا ہے

لب ہیں خموش ضبط سے لیکن یہ مسئلہ
آنکھوں میں تیری یاد سے پھیلی نمی کا ہے

رشتوں کے درمیان بہت مطمئن ہوں میں
اس زندگی میں درد تو تیری کمی کا ہے

یہ دن یہ شب یہ پھول سے موسم ترے بغیر
کیسے گزر رہے ہیں گلہ بس اسی کا ہے

ذکیہ غزل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم