MOJ E SUKHAN

بس ایک رات مرے گھر میں چاند اترا تھا

بس ایک رات مرے گھر میں چاند اترا تھا
پھر اس کے بعد وہی میں وہی اندھیرا تھا

صبا کا نرم سا جھونکا تھا یا بگولا تھا
وہ کیا تھا جس نے مجھے مدتوں رلایا تھا

عجب اٹھان لیے تھا وہ غیرت شمشاد
تباہ حال دلوں کا کہاں ٹھکانہ تھا

اندھیری شام تھی بادل برس نہ پائے تھے
وہ میرے پاس نہ تھا اور میں کھل کے رویا تھا

زمیں میں دفن مجھے کر گیا ہے جیتے جی
تو کیا میں اس کے لیے قیمتی خزینہ تھا

جھلس جھلس کے میں انجام کار ڈوب گیا
وہ تھا سراب مگر پانیوں سا گہرا تھا

نشاں کہیں بھی نہ تھے اس کی انگلیوں کے مگر
میں گھر کی دیکھ کے ایک ایک چیز رویا تھا

جلے تو ساتھ جلیں گی یہ جھاڑیاں اظہارؔ
کسی کے شہر میں تو درد یوں نہ بٹتا تھا

محمد اظہار الحق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم