MOJ E SUKHAN

بس یہی حد ادب ہے آقا

بس یہی حد ادب ہے آقا
پاوءں چھونے کی طلب ہے آقا

پھر وہی ماہ ربیع الاول
پھر وہی جشن طرب ہے آقا

کوئی خواہش بھی مدینے کے سوا
پہلے تھی اور نہ اب ہے آقا

آپ ہی رحمت عالم ہیں حضور
آپ ہی کا یہ لقب ہے آقا

یہ جو دوری ہے مدینے سے، یہی
وحشت دل کا سبب ہے آقا

آپ کی سمت بڑھے جاتا ہے
جو مرا دست طلب ہے آقا

جاگتی ہیں مری آنکھیں ایسے
جیسے دیدار کی شب ہے آقا

آپ راضی ہیں اگر مجھ سے تو پھر
مجھ سے راضی مرا رب ہے آقا

مجھ کو صحرائے عرب کا پانی
شربت بنت عنب ہے آقا

آپ سے ہم کو ملانے والا
آپ کا بحر عرب ہے آقا

ہے مدینہ ہی مری بزم خیال
اور یہی بزم ادب ہے آقا

یاد طیبہ سے مری آنکھوں میں
رونق گریہء شب ہے آقا

رونق حیات

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم