MOJ E SUKHAN

بصارتوں کو رہ شوق میں گنوا دیکھا

غزل

بصارتوں کو رہ شوق میں گنوا دیکھا
تجھے نہ دیکھا مگر ہاں یہ حادثہ دیکھا

وجود سونپ کے سب کچھ بچا لیا ہم نے
نہ آنکھ میں کوئی آنسو نہ سانحہ دیکھا

کتاب زیست بھی اپنی نہیں رہی کہ یہاں
ہر اک ورق پہ نیا ایک حاشیہ دیکھا

خلاف موج سمندر شناس بہہ نکلے
میں جس طرف گیا طوفان ہی اٹھا دیکھا

عابد جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم