MOJ E SUKHAN

بعد مدت کے تری یاد کے بادل برسے

بعد مدت کے تری یاد کے بادل برسے
وہ بھی ایسے کہ کئی روز مسلسل برسے

منتظر اور بھی صحرا ہیں اسی بادل کے
صرف تجھ پر ہی بھلا کیسے یہ ہر پل برسے

پیاس اس شہر کی بجھنے کا یہی رستہ ہے
بن کے بادل کسی درویش کی چھاگل برسے

لگ گئی کس کی نظر شہر نگاراں کو مرے
اب تو ہر شام یہاں وحشت مقتل برسے

کب کی پیاسی ہے زمیں یہ بھی نظر میں رکھے
کہہ دو بادل سے ذرا دیر مسلسل برسے

لب کشا ہو کہ مہک اٹھے فضا کا یہ سکوت
منتظر کب سے سماعت ہے کہ صندل برسے

جاوید نسیمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم