MOJ E SUKHAN

بلاتے کیوں ہو عاجز کو بلانا کیامزا دے ہے

بلاتے کیوں ہو عاجز کو بلانا کیامزادے ہے
غزل کمبخت کچھ ایسے پڑھے ہے دل ہلادے ہے

محبت کیابلا ہے چین لیناہی بھلادے ہے
ذرابھی آنکھ جھپکے ہے توبیتابی جگادے ہے

ترے ہاتھوں کی سرخی خود ثبوت اس بات کا دے ہے
کہ جو کہہ دے ہے دیوانہ وہ کرکے بھی دکھادے ہے

غضب کی فتنہ سازی آئے ہے اس آفت ِجاں کو
شرارت خود کرے ہے اورہمیں تہمت لگادے ہے

مری بربادیوں کا ڈال کر الزام دنیاپر
وہ ظالم اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر مسکرادے ہے

اب انسانوں کی بستی کا یہ عالم ہے کہ مت پوچھو
لگے ہے آگ اک گھر میں توہمسایہ ہوادے ہے

کلیجہ تھام کر سنتے ہیں لیکن سن ہی لیتے ہیں
مرے یاروں کو مرے غم کی تلخی بھی مزادے ہے

(کلیم عاجز)

ایک تبصرہ چھوڑیں