Bulaya phir say Amreeka Hay Mujh ko
غزل
بلایا پھر سے امریکا ہے مجھ کو
مجھے کیوں اتنا بھایا جا رہا ہے
جوانی میں بلانا تھا جہاں پر
بڑھاپے میں بلایا جا رہا ہے
وہاں میں شعر پڑھنے جا رہا ہوں
جہاں اب شعر گایا جا رہا ہے
ادب کو وہ ادب سے بیچتے ہیں
ادب سے اب کمایا جا رہا ہے
وہاں انگور کی بیٹی ملے گی
یہ کہہ کہہ کر منایا جا رہا ہے
میں جو کہتا ہوں کہتے ہیں بجا ہے
بجا کہہ کر بجایا جا رہا ہے
سور اچھا بہت لگتا ہے ان کو
یہ کیوں مجھ کو بتایا جا رہا ہے
ابھی دیوار سے میں کب لگا ہوں
مرا فوٹو لگایا جا رہا ہے
ضرورت تو نہیں تھی پھر بھی دیکھو
مجھے الو بنایا جا رہا ہے
حیدر حسنین جلیسی
Haider Hussnain Jaleesi