MOJ E SUKHAN

بلا سے مرتبے اونچے نہ رکھنا

غزل

بلا سے مرتبے اونچے نہ رکھنا
کسی دربار سے رشتے نہ رکھنا

جوانوں کو جو درس بزدلی دیں
کبھی ہونٹوں پہ وہ قصے نہ رکھنا

اگر پھولوں کی خواہش ہے تو سن لو
کسی کی راہ میں کانٹے نہ رکھنا

کبھی تم سائلوں سے تنگ آ کر
گھروں کے بند دروازے نہ رکھنا

پڑوسی کے مکاں میں چھت نہیں ہے
مکاں اپنے بہت اونچے نہ رکھنا

نہیں ہے گھر میں مال و زر تو کیا غم
وراثت میں مگر قرضے نہ رکھنا

رئیس شہر کو میں جانتا ہوں
کوئی امید تم اس سے نہ رکھنا

بہت بے رحم ہے تابشؔ یہ دنیا
تعلق اس سے تم گہرے نہ رکھنا

تابش مہدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم