MOJ E SUKHAN

بنا کر توڑ دیتا ہوں میں اک تصویر پتھر کی

Bana Kar toor Detta Hoon main ik Tasveer pathar ki

غزل

بنا کر توڑ دیتا ہوں میں اک تصویر پتھر کی
کہ بن جاتی ہے صورت روز اک وحشی ستمگر کی

ستم پر مت ستم کیجئے کہ اک محشر متعین ہے
خدا جانے کہ کیسی ہو وہاں حالت ترے سر کی

مری آنکھوں کی سرخی نے نہ جانے کیا ستم ڈھائے
صراحی رو پڑی دیکھی پریشاں پیاس ساغر کی

مجھے لوگوں سے الفت ہے جو میں باغی ہوا ورنہ
کہاں دہشت بغاوت کی کہاں طاسیں سمندر کی

طاسین سمندر

Taseen Samandar

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم