MOJ E SUKHAN

بنا گلاب تو کانٹے چبھا گیا اک شخص

بنا گلاب تو کانٹے چبھا گیا اک شخص

ہوا چراغ تو گھر ہی جلا گیا اک شخص

۔

تمام رنگ مرے اور سارے خواب مرے

فسانہ تھے کہ فسانہ بنا گیا اک شخص

۔

میں کس ہوا میں اڑوں کس فضا میں لہراؤں

دکھوں کے جال ہر اک سو بچھا گیا اک شخص

۔

پلٹ سکوں ہی نہ آگے ہی بڑھ سکوں جس پر

مجھے یہ کون سے رستے لگا گیا اک شخص

۔

محبتیں بھی عجب اس کی نفرتیں بھی کمال

مری ہی طرح کا مجھ میں سما گیا اک شخص

۔

محبتوں نے کسی کی بھلا رکھا تھا اسے

ملے وہ زخم کہ پھر یاد آ گیا اک شخص

۔

کھلا یہ راز کہ آئینہ خانہ ہے دنیا

اور اس میں مجھ کو تماشا بنا گیا اک شخص

عبید اللہ علیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم