MOJ E SUKHAN

بندوں کا مزاج ہم نے دیکھا

بندوں کا مزاج ہم نے دیکھا
کیا کچھ نہیں آج ہم نے دیکھا

ہلتے ہوئے تخت کو سنبھالو
گرتا ہوا تاج ہم نے دیکھا

جیتے تو خوشی سے مر نہ جاتے
کس شخص کا راج ہم نے دیکھا

کیا کیا نہ ترس ترس گئے ہم
کیا کیا نہ سماج ہم نے دیکھا

روئے ہیں تو لوگ رو پڑے ہیں
اب کے تو رواج ہم نے دیکھا

گوہرؔ کو سلام شوق پہنچے
کچھ کام نہ کاج ہم نے دیکھا

گوہر ہوشیارپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم