MOJ E SUKHAN

بند آنکھوں کی جب کھڑکیاں کھل گئیں

غزل

بند آنکھوں کی جب کھڑکیاں کھل گئیں
ہو گئی شاعری کاپیاں کھل گئیں

ساحل دل پہ ارماں کی کشتی چلی
یوں تلاطم اٹھا رسیاں کھل گئیں

شعر و نغمے کی محفل جہاں بھی سجی
موسم حبس کی مٹھیاں کھل گئیں

آنکھ میچے ہی پہچانا میں نے تجھے
پھر گلابوں سی دو پتیاں کھل گئیں

تجھ کو دیکھا لگا صبح نو ہو گئی
الجھنوں سے بنی گتھیاں کھل گئیں

موسم دل پہ جب سے بہارؔ آ گئی
آرزؤں بھری تتلیاں کھل گئیں

بہار النساء بہار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم