MOJ E SUKHAN

بنوا رہا ہوں بنگلہ میں شہر مری کے ساتھ

بنوا رہا ہوں بنگلہ میں شہر مری کے ساتھ
رہتی اگر وہ شوخ بھی نتھیا گلی کے ساتھ

دیوان اپنے سامنے رکھ کر کبھی تو سوچ
کھلواڑ ہے یہ کتناترا شاعری کے ساتھ

دیکھا ہے ایک پنڈ میں منظر عجیب سا
کھوتا بندھا ہوا تھا وہاں مارکی کے ساتھ

میں اس کو کیک رس نہ کسی دن کھلا سکا
ملتی تھی جو ہمیشہ مجھے بیکری کے ساتھ

ڈرتا ہوں میرے بچے کہیں اس کو پڑھ نہ لیں
جو داستاں پڑی ہے مری لوفری کے ساتھ

اتنا بھی تجربہ نہیں میرا فلرٹ کا
چکر چلا رہا ہوں ابھی تیسری کے ساتھ

یہ سین میری روح پہ آرا چلا گیا
اک بھوت چل رہا تھا سڑک پر پری کے ساتھ

کیسے کہوں میں اس کو مجدد لسان دان
اردو جو بولتا ہو غلط، فارسی کے ساتھ

ہم دونوں کی ہیں اپنی دھڑے بندیاں میاں
تم شاعرہ کے ساتھ ہو، میں شاعری کے ساتھ

فیصل غضب کی حسن ضیافت ہوئی مری
آئس کریم پیش کی جاناں نے ٹی کے ساتھ

ڈاکٹر عزیز فیصل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم