MOJ E SUKHAN

بن تیرے مکمل کوئی منظر نہیں ہوتا

بن تیرے مکمل کوئی منظر نہیں ہوتا
پہلے کی طرح دل مرا مضطر نہیں ہوتا

آدم کی طبیعت نے کھلائے ہیں عجب گل
خود کے لیے اک پل بھی میسر نہیں ہوتا

کچھ آدمی ایسے ہیں جنہیں لاکھ پڑھا لو
چاہت کا سبق تو انہیں ازبر نہیں ہوتا

ہیں ظرف کی تقسیم کے قائم شدہ درجے
دریا تو کسی طور سمندر نہیں ہوتا

اک تیرا تصور یوں بھلا دیتا ہے ہر شے
پھر سامنے میرے کوئی منظر نہیں ہوتا

منسوب رہی مجھ سے غم و درد کی دنیا
ہر ایک کا تو ایسا مقدر نہیں ہوتا

تقسیم وراثت کا عمل اور ہی کچھ ہے
جذبات کا اس میں کوئی عنصر نہیں ہوتا

مصروف ہے ہر شخص سو دنیا میں مگن ہے
اب خود کو میسر بھی وہ اکثر نہیں ہوتا

الفاظ سے آئینۂ دل چور ہوا ہے
لفظوں سے جو ظالم کوئی پتھر نہیں ہوتا

سودا نہ سماتا جو تجھے عشق کا شمسؔہ
ہر شخص نے تھاما ہوا پتھر نہیں ہوتا

شمسہ نجم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم