بن تیرے مکمل کوئی منظر نہیں ہوتا
پہلے کی طرح دل مرا مضطر نہیں ہوتا
آدم کی طبیعت نے کھلائے ہیں عجب گل
خود کے لیے اک پل بھی میسر نہیں ہوتا
کچھ آدمی ایسے ہیں جنہیں لاکھ پڑھا لو
چاہت کا سبق تو انہیں ازبر نہیں ہوتا
ہیں ظرف کی تقسیم کے قائم شدہ درجے
دریا تو کسی طور سمندر نہیں ہوتا
اک تیرا تصور یوں بھلا دیتا ہے ہر شے
پھر سامنے میرے کوئی منظر نہیں ہوتا
منسوب رہی مجھ سے غم و درد کی دنیا
ہر ایک کا تو ایسا مقدر نہیں ہوتا
تقسیم وراثت کا عمل اور ہی کچھ ہے
جذبات کا اس میں کوئی عنصر نہیں ہوتا
مصروف ہے ہر شخص سو دنیا میں مگن ہے
اب خود کو میسر بھی وہ اکثر نہیں ہوتا
الفاظ سے آئینۂ دل چور ہوا ہے
لفظوں سے جو ظالم کوئی پتھر نہیں ہوتا
سودا نہ سماتا جو تجھے عشق کا شمسؔہ
ہر شخص نے تھاما ہوا پتھر نہیں ہوتا
شمسہ نجم