بن گیا ہے مزاج شیشے کا
جب سے پہنا ہے تاج شیشے کا
کچھ منافق سے سنگ مل جائیں
خوب چمکے گا راج شیشے کا
سانس لیتا ہوں احتیاط سے میں
دل میں ہے کام کاج شیشے کا
کوئی چھو لے تو ہاتھ زخمی ہوں
بن گیا ہے اناج شیشے کا
قرض ہوجائے پتھروں کا ادا
دینا ہوگا خراج شیشے کا
آج بازار میں ہیں نابینا
بھاؤ بہتر ہے آج شیشے کا
واعظوں، میکدے تو جانے دو
کچھ تو ہوگا علاج شیشے کا
من کا میلا ہےتن کا اجلا ہے
اہلِ دھن کا سماج شیشے کا
دل کو پتھر بنالیا ہے خلش
پھربھی چلتا ہے راج شیشے کا
سہیل ضرار خلش