MOJ E SUKHAN

بن گیا ہے مزاج شیشے کا

بن گیا ہے مزاج شیشے کا
جب سے پہنا ہے تاج شیشے کا

کچھ منافق سے سنگ مل جائیں
خوب چمکے گا راج شیشے کا

سانس لیتا ہوں احتیاط سے میں
دل میں ہے کام کاج شیشے کا

کوئی چھو لے تو ہاتھ زخمی ہوں
بن گیا ہے اناج شیشے کا

قرض ہوجائے پتھروں کا ادا
دینا ہوگا خراج شیشے کا

آج بازار میں ہیں نابینا
بھاؤ بہتر ہے آج شیشے کا

واعظوں، میکدے تو جانے دو
کچھ تو ہوگا علاج شیشے کا

من کا میلا ہےتن کا اجلا ہے
اہلِ دھن کا سماج شیشے کا

دل کو پتھر بنالیا ہے خلش
پھربھی چلتا ہے راج شیشے کا

سہیل ضرار خلش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم