MOJ E SUKHAN

بوئے خوں خنجر میں رہنے دیجئے

غزل

بوئے خوں خنجر میں رہنے دیجئے
بات گھر کی گھر میں رہنے دیجئے

ظلمت شب کو نہ کہئے روشنی
فرق خیر و شر میں رہنے دیجئے

اپنی یادیں ساتھ لے جائیں نہ آپ
روشنی کچھ گھر میں رہنے دیجئے

ورنہ تنہائی مجھے کھا جائے گی
کوئی سودا سر میں رہنے دیجئے

آپ میری بات کا دیجے جواب
خامشی پتھر میں رہنے دیجئے

فاش ہو جائے نہ شاداںؔ راز عشق
شور گریہ گھر میں رہنے دیجئے

شاداں بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم