MOJ E SUKHAN

بوند پانی کو مرا شہر ترس جاتا ہے

بوند پانی کو مرا شہر ترس جاتا ہے
اور بادل ہے کہ دریا پہ برس جاتا ہے

آتشیں دھوپ سے ملتی ہے کبھی جس کو نمو
وہی پودا کبھی بارش سے جھلس جاتا ہے

راہ تشکیل وہ ارباب وفا نے کی تھی
اب جہاں قافلۂ اہل ہوس جاتا ہے

ہو چکی بوئے وفا شہر سے رخصت کب کی
کوئی دن ہے کہ پھلوں میں سے بھی رس جاتا ہے

آدمی پر وہ کڑا وقت بھی آتا ہے کہ جب
سانس لینے پس دیوار قفس جاتا ہے

تم بھرے شہر میں کس ڈھنگ سے رہتے ہو نسیمؔ
ویا ویرانے میں جا کر کوئی بس جاتا ہے

نسیم سحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم