MOJ E SUKHAN

بچائےرہتے ہیں سب کے بھرم درودیوار

غزل

بچائےرہتے ہیں سب کے بھرم درودیوار
مگر اٹھاتے نہیں ہیں قسم درودیوار

عبادتوں کے سبب جب بہشت بنتا ہے گھر
سمیٹ لیتے ہیں بوئے ارم درودیوار

سہارا لیتے نہیں ہیں عصاۓ شکوےکا
اٹھائے پھرتے ہیں خود اپنے غم درودیوار

نہ جانے دھوپ سے ہوجاتا کیسا حال اگر
نہ دیتے سایۂ لطف و کرم درودیوار

ہماری باتوں پہ تھا گوش برسدا لیکن
رکھے ہوئے ہیں ہمارا بھرم درودیوار

بہت ہی سوچ کے ا سرار کو بیان کرو
کہ سنتے رہتے ہیں ہر ایک قدم درودیوار

مجھے عزیز ہے ان سے جڑی ہوئی ہر چیز
ہیں میرے واسطے مثل صنم درودیوار

منور آنکھیں میری جب بھی اشک بار ہوئیں
ہوئی ہیں ساتھ میں خود میرے نم درودیوار

منور جہاں منور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم