MOJ E SUKHAN

بچھو راجا

بچھو راجا

ایک آتش فشاں میں کمرہ ہے
اور کمرے میں سات سو بچھو
ایک بچھو کی پانچ سو ٹانگیں
اور ٹانگوں میں خم ہزار ہزار
سوچ کی سیڑھیوں سے کمرے میں
ایک لاغر وجود گرتا ہے
کسمساتا ہے ڈنگ کھاتا ہے
ڈنگ کھاتا ہے مسکراتا ہے
مسکراتا ہے زہر پیتا ہے
زہر پیتا اور مرتا نئیں
رقص کرتا ہے اور ڈرتا نئیں
زہر اسکی رگوں سے رستا ہے
قطرہ قطره زمیں پہ گرتا ہے
اور بنتا ہے اک نیا بچھو
اسکے تانڈو پہ ناچتا بچھو
جسکی آنکھوں میں سرخ انگارے
اور سینے میں ایک چنگاری
اس کے قدموں میں سات سو لاشیں
اور ہاتھوں میں ایک باجا ہے
اب وہی بچھووں کا راجا ہے

عمار اقبال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم