MOJ E SUKHAN

بچھڑے ہیں کب سے قافلۂ رفتگاں سے ہم

غزل

بچھڑے ہیں کب سے قافلۂ رفتگاں سے ہم
مل جائیں گے کبھی نہ کبھی کارواں سے ہم

رہ رہ کے پوچھتے ہیں یہی باغباں سے ہم
لے جائیں چار تنکے کہاں آشیاں سے ہم

مجبور کس قدر ہیں دل بد گماں سے ہم
دیکھے کوئی کہ چپ ہیں کھڑے بے زباں سے ہم

اللہ رے عروج تخیل کے حوصلے
چل کر مکاں سے بڑھ گئے کچھ لا مکاں سے ہم

باد خزاں نے رنگ چمن کیا اڑا دیا
آخر کو نکلے خاک بسر بوستاں سے ہم

کس منہ سے ہاتھ اٹھائیں دعائیں ہیں بے اثر
پھر بھی ہے دل میں چھیڑ کریں آسماں سے ہم

وہ مے پلائی ساقی نے ہیں جس سے ہوش غم
جاگیں نہ جاگیں دیکھیے خواب گراں سے ہم

وہ سرزمیں کہاں کہ نہ ہو گردش فلک
ممکن نہیں کہ بچ کے رہیں آسماں سے ہم

آخر جنوں میں مل گئیں دامن کی دھجیاں
لے آئے ان کو وادی وحشت نشاں سے ہم

کم مائیگی میں نازل ہے عجز و نیاز پر
اب کیا اٹھائیں سر کو ترے آستاں سے ہم

کیسی چمک کہاں کی کھٹک اف رے بے حسی
ہیں مست ذوق لذت درد نہاں سے ہم

مجبور دل تھا حکم قضا و قدر سے شوقؔ
اب کیا بتائیں آئے یہاں پھر کہاں سے ہم

پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم