MOJ E SUKHAN

بچھڑ گیا ہے کہاں کون کچھ پتہ ہی نہیں

غزل

بچھڑ گیا ہے کہاں کون کچھ پتہ ہی نہیں
سفر میں جیسے کوئی اپنے ساتھ تھا ہی نہیں

کسی سے ربط بڑھائیں تو مت خفا ہونا
کہ دل میں اب تری یادوں کا سلسلہ ہی نہیں

سب اپنے اپنے مسیحا کے انتظار میں ہیں
کسی کا جیسے زمانے میں اب خدا ہی نہیں

اک عمر کٹ گئی کاغذ سیاہ کرتے ہوئے
قلم کو اپنے جو لکھنا تھا وہ لکھا ہی نہیں

قمرؔ وہ شخص ہمارے نگر میں کیا آیا
بتوں کو بھی ہے گلہ کوئی پوجتا ہی نہیں

قمر اقبال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم