Bacha Hay Bilakta kay machalta howa Aansoo
غزل
بچہ ہے بلکتا کہ مچلتا ہوا آنسو
خوراک ہے چھاتی میں کہ ڈھلتا ہوا آنسو
ڈر ہے کہ مری آنکھ کا ناسور نہ بن جائے
یہ صبر کی آغوش میں پلتا ہوا آنسو
ہوتا ہے تمناؤں کا خوں نوکِ زباں پر
دیکھو تو کبھی دل سے نکلتا ہوا آنسو
اک میرے سوا کون ہے اس آگ کی زد میں
مجھ پر ہی گرے گا مرا جلتا ہوا آنسو
مت پوچھ کہ کس حال میں ہوتا ہے برامد
یہ رنگِ رخ و چشم بدلتا ہوا آنسو
دونوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا
بجھتا ہوا چہرہ ہو یا جلتا ہوا آنسو
خود مصرعِ تر کھینچ کے لے آتا ہے راہی
الفاظ کے سانچے میں یہ ڈھلتا ہوا آنسو
عظیم راہی
Azeem Rahi