MOJ E SUKHAN

بڑھ گیا بادۂ گلگوں کا مزا آخر شب

غزل

بڑھ گیا بادۂ گلگوں کا مزا آخر شب
اور بھی سرخ ہے رخسار حیا آخر شب

منزلیں عشق کی آساں ہوئیں چلتے چلتے
اور چمکا ترا نقش کف پا آخر شب

کھٹکھٹا جاتا ہے زنجیر در مے خانہ
کوئی دیوانہ کوئی آبلہ پا آخر شب

سانس رکتی ہے چھلکتے ہوئے پیمانے میں
کوئی لیتا تھا ترا نام وفا آخر شب

گل ہے قندیل حرم گل ہیں کلیسا کے چراغ
سوئے پیمانہ بڑھے دست دعا آخر شب

ہائے کس دھوم سے نکلا ہے شہیدوں کا جلوس
جرم چپ سر بہ گریباں ہے جفا آخر شب

اسی انداز سے پھر صبح کا آنچل ڈھلکے
اسی انداز سے چل باد صبا آخر شب

محدوم محی الدین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم