MOJ E SUKHAN

بڑی مشکل سے چھپایا ہے کوئی دیکھ نہ لے

بڑی مشکل سے چھپایا ہے کوئی دیکھ نہ لے
آنکھ میں اشک جو آیا ہے کوئی دیکھ نہ لے

یہ جو محفل میں مرے نام سے موجود ہوں میں
میں نہیں ہوں مرا دھوکا ہے کوئی دیکھ نہ لے

سات پردوں میں چھپا کر اسے رکھا ہے مگر
دل کو اب بھی یہی دھڑکا ہے کوئی دیکھ نہ لے

ڈر رہا ہوں کہ سر شام تری آنکھوں میں
میں نے جو وقت گزارا ہے کوئی دیکھ نہ لے

ہاتھ نرمی سے چھڑاتی ہوئی خلوت نے کہا
یہ جو خلوت ہے تماشا ہے کوئی دیکھ نہ لے

تیرا میرا کوئی رشتہ تو نہیں ہے لیکن
میں نے جو خواب میں دیکھا ہے کوئی دیکھ نہ لے

ساتھ چلنا ہے تو غیروں کی طرح ساتھ نہ چل
شہر کا شہر شناسا ہے کوئی دیکھ نہ لے

جاوید صبا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم