MOJ E SUKHAN

بڑی ہے زندگی دشوار کیا کیا جائے

غزل

بڑی ہے زندگی دشوار کیا کیا جائے
غمی کا گرم ہے بازار کیا کیا جائے

زرا سا دل کا ہے کوزہ ہزار حسرتیں ہیں
لگا ہے حسرتی انبار کیا کیا جائے

طویل تر ہے سفر اور زخم زخم ہیں پاؤں
بڑا ہے راستہ پُر خار کیا کیا جائے

ہزار صبر طلب انتظار ہے لیکن
یہ انتظار کا آزار کیا کیا جائے

اُسی کی ہے طلب روز و شب بہت لیکن
اُسی سے دل بھی ہے بیزار کیا کیا جائے

ہے تیرا ساتھ بھی حاصل ہے تیرا ہاتھ میں ہاتھ
مگر ہے راہ جو پُرخار کیا کیا جائے

ثمر بھی باغ بھی مالی بھی بک رہے ہیں یہاں
لگا ہے مصر کا بازار کیا کیا جائے

ثمرین ندیم ثمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم