غزل
بڑی ہے زندگی دشوار کیا کیا جائے
غمی کا گرم ہے بازار کیا کیا جائے
زرا سا دل کا ہے کوزہ ہزار حسرتیں ہیں
لگا ہے حسرتی انبار کیا کیا جائے
طویل تر ہے سفر اور زخم زخم ہیں پاؤں
بڑا ہے راستہ پُر خار کیا کیا جائے
ہزار صبر طلب انتظار ہے لیکن
یہ انتظار کا آزار کیا کیا جائے
اُسی کی ہے طلب روز و شب بہت لیکن
اُسی سے دل بھی ہے بیزار کیا کیا جائے
ہے تیرا ساتھ بھی حاصل ہے تیرا ہاتھ میں ہاتھ
مگر ہے راہ جو پُرخار کیا کیا جائے
ثمر بھی باغ بھی مالی بھی بک رہے ہیں یہاں
لگا ہے مصر کا بازار کیا کیا جائے
ثمرین ندیم ثمر