MOJ E SUKHAN

بڑے غضب کا ہے یارو بڑے عذاب کا زخم

غزل

بڑے غضب کا ہے یارو بڑے عذاب کا زخم
اگر شباب ہی ٹھہرا مرے شباب کا زخم

ذرا سی بات تھی کچھ آسماں نہ پھٹ پڑتا
مگر ہرا ہے ابھی تک ترے جواب کا زخم

زمیں کی کوکھ ہی زخمی نہیں اندھیروں سے
ہے آسماں کے بھی سینے پہ آفتاب کا زخم

میں سنگسار جو ہوتا تو پھر بھی خوش رہتا
کھٹک رہا ہے مگر دل میں اک گلاب کا زخم

اسی کی چارہ گری میں گزر گئی اسرارؔ
تمام عمر کو کافی تھا اک شباب کا زخم

ابنِ صفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم