MOJ E SUKHAN

بکھرتی خوشبو کا ہمسفر ہونا چاہتے ہیں

بکھرتی خوشبو کا ہمسفر ہونا چاہتے ہیں
خراب ہیں اور خراب تر ہونا چاہتے ہیں

یہ کون مہتاب چشم گھر سے نکل پڑا ہے
ستارے بھی گرد رہگزر ہونا چاہتے ہیں

ستم تو یہ ہے انہیں بھی منزل کی آرزو ہے
جو راستے سے ادھر اُدھر ہونا چاہتے ہیں

کوئی ٹھکانہ نظر میں رکھے ہوئے تو ہوں گے
جو اپنی مرضی سے دربدر ہونا چاہتے ہیں

کہ دوسرے پن کا شائبہ تک نہ ہو کسی کو
ہم ان کے نزدیک اس قدر ہونا چاہتے ہیں

سید انصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم