MOJ E SUKHAN

بگولہ بن کے ناچتا ہوا یہ تن گزر گیا

بگولہ بن کے ناچتا ہوا یہ تن گزر گیا
ہوا میں دیر تک اڑا غبار اور بکھر گیا

ہماری مٹی جانے کون ذرہ ذرہ کر گیا
بغیر شکل یہ وجود چاک پر بکھر گیا

یہ روح حسرت وجود کی بقا کا نام ہے
بدن نہ ہو سکا جو خواب روح میں ٹھہر گیا

عجب سی کشمکش تمام عمر ساتھ ساتھ تھی
رکھا جو روح کا بھرم تو جسم میرا مر گیا

ہر ایک راہ اس کے واسطے تھی بے قرار اور
مسافر اپنی دھن میں منزلوں سے بھی گزر گیا

اڑا دی راکھ جسم کی خلا میں دور دور جب
علیناؔ آسمانی نور روح میں اتر گیا

علینا عطرت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم