MOJ E SUKHAN

بھانپ کر قتل کے ارادے کو

بھانپ کر قتل کے ارادے کو
ہم بچا لاۓ شاه زادے کو

شہر میں معتبر بنا ہوا ہے
وه پہن کر مرے لبادے کو

بات نکلی تھی غمگساری کی
آ گئے لوگ استفادے کو

آنکھ چھلکی نہیں مری جب سے
تھام رکھا ہے ایک وعدے کو

بچ نکلتا ہے شہ سوار سدا
مات ہوتی ہے بس پیادے کو

ہم نے پالا ہے مشکلوں سے امین
تیری یادوں کے خانوادے کو

امین اڈیرائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم