MOJ E SUKHAN

بھاگتے سورج کو پیچھے چھوڑ کر جائیں گے ہم

غزل

بھاگتے سورج کو پیچھے چھوڑ کر جائیں گے ہم
شام کے ہوتے ہی واپس اپنے گھر جائیں گے ہم

کاٹنے کو ایک شب ٹھہرے ہیں تیرے شہر میں
کیا بتائیں صبح ہوگی تو کدھر جائیں گے ہم

دھوپ میں پھولوں سا مرجھا بھی گئے تو کیا ہوا
شہر سے ہونٹوں کے پیمانے تو بھر جائیں گے ہم

آج گردوں کی بلندی ناپنے میں محو ہیں
کل کسی گہرے سمندر میں اتر جائیں گے ہم

ڈھونڈتے کھویا ہوا چہرہ کسی شیشے میں کیوں
جانتے گر یہ کہ سائے سے بھی ڈر جائیں گے ہم

کچھ ہمارا حال بھی خاورؔ ہے کندن کی طرح
دکھ کے شعلوں میں جلیں گے تو نکھر جائیں گے ہم

بدیع الزماں خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم