MOJ E SUKHAN

بھرنے کو جو دامن کوئی پھولوں سے چلا ہو

غزل

بھرنے کو جو دامن کوئی پھولوں سے چلا ہو
کیا جانئے اس شخص کا کیا حال ہوا ہو

ٹوٹے ہوئے کچھ خواب تھے پیوستۂ تقدیر
کردار میں ان کا کوئی ریزہ نہ چبھا ہو

ایسا بھی ہوا ہے کبھی اس دہر میں لا کر
انسان کی قسمت کو خدا بھول گیا ہو

جس آنکھ نے اس حال کو پہنچایا ہو کیا خوب
یہ حال اسی آنکھ سے دیکھا نہ گیا ہو

کس طرح پھر آمادگیٔ قلب سے ملیے
دکھتے ہوئے احساس کا جب زخم ہرا ہو

بے ربطیٔ انفاس کے دوران تری یاد
یوں جیسے مسیحا کوئی رستے میں ملا ہو

اک بار نسیمؔ ایسی کوئی کیجئے خواہش
جو شوق کے ناکردہ گناہوں کی سزا ہو

وضاحت نسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم