MOJ E SUKHAN

بھروسہ مت کرو سانسوں کی ڈوری ٹوٹ جاتی ہے

بھروسہ مت کرو سانسوں کی ڈوری ٹوٹ جاتی ہے
چھتیں محفوظ رہتی ہیں حویلی ٹوٹ جاتی ہے

محبت بھی عجب شے ہے وہ جب پردیس میں روئے
تو فوراً ہاتھ کی ایک آدھ چوڑی ٹوٹ جاتی ہے

کہیں کوئی کلائی ایک چوڑی کو ترستی ہے
کہیں کنگن کے جھٹکے سے کلائی ٹوٹ جاتی ہے

لڑکپن میں کئے وعدے کی قیمت کچھ نہیں ہوتی
انگوٹھی ہاتھ میں رہتی ہے منگنی ٹوٹ جاتی ہے

کسی دن پیاس کے بارے میں اس سے پوچھیے جس کی
کنویں میں بالٹی رہتی ہے رسی ٹوٹ جاتی ہے

کبھی اک گرم آنسو کاٹ دیتا ہے چٹانوں کو
کبھی اک موم کے ٹکڑے سے چھینی ٹوٹ جاتی ہے

منور رانا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم