MOJ E SUKHAN

بھری بزم میں گل فشاں اور بھی ہیں

غزل

بھری بزم میں گل فشاں اور بھی ہیں
ہمارے سوا نکتہ داں اور بھی ہیں

یہ دنیا تو مٹ جانے والی ہے لیکن
زمیں اور بھی آسماں اور بھی ہیں

یہ دنیا تو اک ذرۂ مختصر ہے
مکیں اور بھی ہیں مکاں اور بھی ہیں

نہ تنہا مرا کارواں راہ میں ہے
رہ عشق میں کارواں اور بھی ہیں

نہ ہو مطمئن ایک پتھر ہٹا کر
کہ رستے میں سنگ گراں اور بھی ہیں

اگر جی لگے آپ کا تو سناؤں
فسانے کئی بر زباں اور بھی ہیں

کہو بجلیوں سے کہ برسیں مسلسل
ابھی باغ میں آشیاں اور بھی ہیں

عروجؔ اپنے گوشے سے باہر تو نکلو
کہ باہر ہزاروں جہاں اور بھی ہیں

عروج قادری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم