MOJ E SUKHAN

بھلا کیا ہیں برکھا کے موسم کے کہنے

غزل

بھلا کیا ہیں برکھا کے موسم کے کہنے
حسینوں نے پہنے ہیں پھولوں کے گہنے

نہ ہو ان حسینوں میں کیوں جامہ زیبی
لباس محبت جنہوں نے ہوں پہنے

وفا رنگ لائی ہے میری کہ مجھ کو
وہ ہیں بے وفائی کے دیتے الہنے

مقرر تھا ملنا مرا ان سے لیکن
مقدر میں تھے کچھ دنوں رنج سہنے

عجب حال تھا دل کی بیتابیوں کا
نہ جب تک لگے پاس ہم دونوں رہنے

ملے بعد مدت تو فرط خوشی سے
لگے چشم پر شوق سے اشک بہنے

نہ دنیا کی مجھ کو خبر ہے نہ دیں کی
مرے دل پہ جادو کیا ہے برہ نے

جلیلؔ اب تو وہ شوخ رہتا ہے ہر دم
کبھی میرے بائیں کبھی میرے دہنے

جلیل قدوائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم