MOJ E SUKHAN

بہار تھی نہ چمن تھا نہ آشیانہ تھا

غزل

بہار تھی نہ چمن تھا نہ آشیانہ تھا
عجیب رنگ میں گزرا ہوا زمانہ تھا

بہ فیض خون جگر اب وہ ہو رہا ہے چمن
کبھی جو میرے مقدر سے قید خانہ تھا

حدود کون و مکاں میں بھی جو سما نہ سکا
مری حیات کا وہ مختصر فسانہ تھا

نظر میں دیر و حرم تھے کہ میں سمجھ نہ سکا
جہاں جھکی تھی جبیں ان کا آستانہ تھا

بس اتنا یاد ہے مجھ کو کہ برق چمکی تھی
پھر اس کے بعد چمن تھا نہ آشیانہ تھا

فریب حسن میں آئے تو یہ ہوا معلوم
جہاں میں ایک یہی زیست کا بہانہ تھا

جنون شوق کا اک یہ بھی معجزہ ہے نظیرؔ
وہی ہے آج حقیقت جو کل فسانہ تھا

سعادت نظیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم