MOJ E SUKHAN

بہار عالم فانی رہے رہے نہ رہے

غزل

فنا نہیں ہے محبت کے رنگ و بو کے لئے
بہار عالم فانی رہے رہے نہ رہے

جنون حب وطن کا مزا شباب میں ہے
لہو میں پھر یہ روانی رہے رہے نہ رہے

رہے گی آب و ہوا میں خیال کی بجلی
یہ مشت خاک ہے فانی رہے رہے نہ رہے

جو دل میں زخم لگے ہیں وہ خود پکاریں گے
زباں کی سیف بیانی رہے رہے نہ رہے

دلوں میں آگ لگے یہ وفا کا جوہر ہے
یہ جمع خرچ زبانی رہے رہے نہ رہے

جو مانگنا ہے ابھی مانگ لو وطن کے لئے
یہ آرزو کی جوانی رہے رہے نہ رہے

چکبست برج نرائن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم