MOJ E SUKHAN

بہت اکتا گیا ہوں اپنے جی سے

غزل

بہت اکتا گیا ہوں اپنے جی سے
مرا دل بھر گیا ہے ہر کسی سے

بہ زعم خود اجل سے میں لڑا ہوں
بہ زعم خود میں ہارا زندگی سے

نہ جانے کس گلی میں کھو گیا ہوں
میں کٹ کر آپ اپنی زندگی سے

مرا ماضی مری یادیں کہاں ہیں
یہ پوچھوں اب تو کیا پوچھوں کسی سے

نہ جانے کتنے عنواں رشک کرتے
جو اپنی داستاں کہتے کسی سے

جو آئے جس کے جی میں دردؔ کہہ لے
سنوں گا ہر کسی کی میں خوشی سے

وشو ناتھ درد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم