Bohat Bharam Bari Khush qismati Samjhty Hain
غزل
بہت بھرم بڑی خوش قسمتی سمجھتے تھے
ہم اس سے اپنی بہت دوستی سمجھتے تھے
انہوں نے دیکھی نہیں بولتی ہوئی آنکھیں
خموش رہنےکو جو خاموشی سمجھتے تھے
عجیب رسم اسیری تھی کج کلا ہوں میں
کہ چوڑیوں کو بھی وہ ہتھکڑی سمجھتے تھے
مقابلے میں جنہیں ڈر تھا ہار جانے کا
وہ آشنا بھی ہمیں اجنبی سمجھتے تھے
وہ جانتے ہی نہ تھے فرق دشت اور دریا
جو تھوڑی پیاس کو بھی تشنگی سمجھتے تھے
تمھارے غم کا اندھیرا بھی تھا عزیز ہمیں
ہم اس اندھیرے کو بھی روشنی سمجھتے تھے
ریحانہ روحی
Rehana Roohi