MOJ E SUKHAN

بہت خود سے رعایت کر رہا ہوں

بہت خود سے رعایت کر رہا ہوں
مگر پھر بھی بغاوت کر رہا ہوں

تو کیا اے زندگی یہ کم ہے اب تک
میں جینے کی جسارت کر رہا ہوں

غموں سے کیسے گھبراوں کہ ان کی
میں بچپن سے ریاضت کر رہا ہوں

میں اپنی شکل میں تشکیل ہو کر
کہیں خود کو ہی غارت کر رہا ہوں

مرے پیروں میں ہے یہ کیسا چکر
کہ ہر رستہ ریاست کر رہا ہوں

اترنا ہے غموں کے ساحلوں ہر
سو اب اپنی اعانت کر رہا ہوں

امانت دار وہ میرا نہیں ہے
کہیں میں بھی خیانت کر رہا ہوں

یہاں جو چار سو بکھری ہیں یادیں
میں اب ان کی ادارت کر رہا ہوں

میں وہ مظلوم انصر ہوں جو آخر
خلاف اپنے بغاوت کر رہا ہوں

انصر رشید انصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم