MOJ E SUKHAN

بہت مہرباں ہیں مدینے کی گلیاں

بہت مہرباں ہیں مدینے کی گلیاں
جہاں ہم، وہاں ہیں مدینے کی گلیاں

رسول دو عالم کا پیغام لے کر
رواں ہیں، دواں ہیں مدینے کے گلیاں

نظر میں عیاں ہیں محمد کے جلوے
دلوں میں نہاں ہیں مدینے کی گلیاں

کڑی دھوپ ہو یا کہ سورج ہو سر پر
مرا سائباں ہیں مدینے کی گلیاں

مدینے جو پہنچا تو دل یہ پکارا
کہاں ہیں، کہاں ہیں مدینے کی گلیاں

مرا دل ہے یاد محمد کا مسکن
مری روح و جاں ہیں مدینے کی گلیاں

زمیں زاد کیا اس حقیقت کو سمجھیں
مرا آسماں ہیں مدینے کی گلیاں

محمد کی سیرت ہے جنت کا رستہ
سو جنت نشاں ہیں مدینے کی گلیاں

کبھی حمد خوانی یہ کرتی ہیں رب کی
کبھی نعت خواں ہیں مدینے کی گلیاں

کبھی ہیں سفینہ عقیدت کا رونق
کبھی بادباں ہیں مدینے کی گلیاں

رونق حیات

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم