MOJ E SUKHAN

بہت ہے اب مری آنکھوں کا آسماں اس کو

بہت ہے اب مری آنکھوں کا آسماں اس کو
گیا وہ دور کہ تھی فکر آشیاں اس کو

کیا ہے سلطنت دل پہ حکمراں اس کو
نوازشوں کا سلیقہ مگر کہاں اس کو

شگاف زخم جو میرا نہ کھل گیا ہوتا
تو کیسے ملتی یہ شمشیر کہکشاں اس کو

جدھر بھی جاتا ہے وہ شعلۂ بہار سرشت
دعائیں دیتا ہے انبوہ کشتگاں اس کو

خود اس کی اپنی چمک نے سراغ اس کا دیا
چھپایا میں نے بہت زیر آب جاں اس کو

سمندر اپنا سا منہ لے کے رہ گئے عشرتؔ
کیا تراوش شبنم نے بے کراں اس  کو

عشرت ظفر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم