MOJ E SUKHAN

بیاں غیروں سے اپنا غم کریں کیا

غزل

بیاں غیروں سے اپنا غم کریں کیا
نمک کو زخم کا مرہم کریں کیا

نئے موسم کے خاکے ہیں نظر میں
گذشتہ فصل کا ماتم کریں کیا

اترتا ہی نہیں ہے اس کا جادو
بتاؤ خود پہ پڑھ کر دم کریں کیا

اسے ہم کس طرح دل سے نکالیں
یہ دل سنتا نہیں تو ہم کریں کیا

ہم اس کی بے رخی کا ذکر کر کے
اسے کچھ اور بھی برہم کریں کیا

ہمیں جبراً ہی جینا پڑ رہا ہے
بتا اے گردش پیہم کریں کیا

غموں کی دھوپ میں جب جل چکے ہیں
خوشی کی چھاؤں کا عالمؔ کریں کیا

عالم نظامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم