MOJ E SUKHAN

بیچ سڑک پر الجھن میں ہیں جیسے بھٹکے ہوتے ہیں

بیچ سڑک پر الجھن میں ہیں جیسے بھٹکے ہوتے ہیں
ہم نے ایسا کیوں نہ سوچا ,رستے رستے ہوتے ہیں

میں ہُوں ,میری تنہائی ہے ,اور اِک میرا سایہ ہے
کوئی اپنا ساتھ نہیں ہے ,جیسے اپنے ہوتے ہیں

اک شب میں نے خواب میں دیکھا دشت میں تنہا ہوتا ہُوں
رات اندھیری ہوتی ہے اور ریت کے ٹیلے ہوتے ہیں

مُجھ کو اچھا کہنے والے شاید تُجھ کو علم نہیں
پہلے پہلے ملنے والے سارے اچھے ہوتے ہیں

جتنا ممکن ہو سکتا تھا خود کو رستہ دکھلایا
آخر ہم پر بھید کُھلا کچھ لوگ ہی اندھے ہوتے ہیں

فیصل محمود

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم