MOJ E SUKHAN

بےقراری کا تصور رائگاں ہے ان دنوں

Bay Qarari Ka Tasawer Raigaan Hay In dionoo

غزل

بےقراری کا تصور رائگاں ہے ان دنوں
دشمنِ جان و جگر ہی جانِ جاں ہے ان دنوں

کشتیوں کو خوفِ طوفاں کا گماں ہے ان دنوں
پر سکوں لہریں ہیں اور امن و اماں ہے ان دنوں

شاہراہوں سے ذرا بچ کر گزارو قافلہ
حادثہ ہر ہر قدم پر ناگہاں ہے ان دنوں

سوچ کر تم جام لینا اس سے اے بادہ کشو
مبتلا خود میں یہاں پیرِ مغاں ہے ان دنوں

یا خدا سایہ مرے سر پر رہے اسکا سدا
اب ضعیفی کی حدود میں میری ماں ہے ان دنوں

صبح سے پھر صبح تک کا وقت کٹتا ہی نہیں
جانے کیسا زندگی کا امتحاں ہے ان دنوں

کون کس سے کیا خریدے یہ تو سوچا ہی نہیں
شھر کے بازار میں سبکی دکاں ہے ان دنوں

ایک مدت سے "ضیا” پر تیر کھچتا ہی نہیں
سوچتا ہوں وہ مرا دشمن کہاں ہے ان دنوں

سید محمد ضیا علوی

Syed Mohammad Zia Alvi

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم