MOJ E SUKHAN

بے لوث محبت کا صلہ ڈھونڈھ رہا ہوں

غزل

بے لوث محبت کا صلہ ڈھونڈھ رہا ہوں
ناداں ہوں یہ اس شہر میں کیا ڈھونڈھ رہا ہوں

اک موڑ پہ ٹوٹے ہوئے کھنڈر سے مکاں میں
گزرے ہوئے لمحوں کا پتا ڈھونڈھ رہا ہوں

مدت سے یہ خنجر مرے سینے میں ہے اور میں
رستے ہوئے زخموں کی دوا ڈھونڈھ رہا ہوں

دیوانہ جسے سنگ تراشی کا جنوں ہے
کہتا ہے کہ پتھر میں خدا ڈھونڈھ رہا ہوں

منصف ترے انصاف سے واقف ہوں تبھی تو
ناکردہ گناہوں کی سزا ڈھونڈھ رہا ہوں

یہ شام اور اس پر تری یادوں کی حلاوت
اک جام میں دو شے کا نشہ ڈھونڈھ رہا ہوں

نفس انبالوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم