MOJ E SUKHAN

بے وفا آپ گر وفا کرتے

Baywafa Aap jo wafa karty

غزل

بے وفا آپ گر وفا کرتے
ہم کسی سے کیوں التجا کرتے

اس جدائی سے لاکھ بہتر تھا
جسم سے روح کو جدا کرتے۔

ہم سراپا ہیں آئینہ جاناں
آئینے سے نہیں چھپا کرتے۔

آپ تھے آپ کا تصور تھا،
پھر کسی کا گمان کیا کرتے۔

اک خدا اور ہوتا ممکن تو
ہم صنم آپکو خدا کرتے۔

کل خودی نے خدا سے پوچھ لیا
ہم نہ ہوتے تا آپ کیا کرتے.

وہ مجدد کہیں نہیں ہوتے
جو کسی کے نہیں ہوا کرتے۔

پیر غلام مجدد سرہندی مجدد

Peer Ghulam Mujadid Sarhandi

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم