MOJ E SUKHAN

بے وفا اب نہ محبت کی دہائی دوں گا

غزل

بے وفا اب نہ محبت کی دہائی دوں گا
زندگی بھر میں تجھے زخم جدائی دوں گا

جو مجھے جیسا سمجھتا ہے سمجھنے دیجے
اپنے بارے میں کہاں تک میں صفائی دوں گا

میرے حصے میں بھی آیا ہے بلندی کا سفر
آسماں والوں تمہیں میں بھی دکھائی دوں گا

بخش دے گا وہ مری ساری خطائیں فوراً
اس کی رحمت کی اسے اتنی دہائی دوں گا

اپنے ماں باپ کو کاندھا بھی نہیں دے پایا
جو یہ کہتا تھا انہیں ساری کمائی دوں گا

میں سفیران محبت کی صدا ہوں عالمؔ
مر بھی جاؤں تو زمانے کو سنائی دوں گا

عالم نظامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم